Sunday, 4 October 2020

فلک جھکا ہے یا تارے زمین پر آئے

 فلک جھکا ہے یا تارے زمین پر آئے

زمانے بعد کے ہم پر جو پیشتر آئے

عیاں تھے اتنے مناظر شباہتوں کے جو

شکستہ آئینے میں بھی ہمیں نظر آئے

مِری وفا کا زیاں کیا مِرے لیے کم تھا

تِری جفا کے بھی الزام میرے سر آئے

نجانے ایسی تمنا کا کیا بنے گا جو

لہو میں ڈوبے مگر اشک میں ابھر آئے

کچھ اس غرور سے آتی ہے گھر میں فصل خزاں

کہ دوست جیسے کبھی دوستوں کے گھر آئے

بدل سکے نہ تِرے بعد رنگ محفل کا

وگرنہ اور بھی محفل میں سحر گر آئے

ذرا سا دل میں جنوں کا خیال گزرا تھا

کہ میرے صحن میں ہر سمت سے پتھر آئے

کسے ہے شک بھلا اس بات کی صداقت میں

جو جی کی جی میں رہے اور آنکھ بھر آئے

کبھی تو من کو جلاتی ہیں اس طرح یادیں

ہوا کہ جیسے کبھی آگ کو چھو کر آئے

اڑان لے گیا کوئی گرفت سے عابد

ہمارے ہاتھ تو بس پنچھی اور پر آئے


عابد بنوی

No comments:

Post a Comment