فلک جھکا ہے یا تارے زمین پر آئے
زمانے بعد کے ہم پر جو پیشتر آئے
عیاں تھے اتنے مناظر شباہتوں کے جو
شکستہ آئینے میں بھی ہمیں نظر آئے
مِری وفا کا زیاں کیا مِرے لیے کم تھا
تِری جفا کے بھی الزام میرے سر آئے
نجانے ایسی تمنا کا کیا بنے گا جو
لہو میں ڈوبے مگر اشک میں ابھر آئے
کچھ اس غرور سے آتی ہے گھر میں فصل خزاں
کہ دوست جیسے کبھی دوستوں کے گھر آئے
بدل سکے نہ تِرے بعد رنگ محفل کا
وگرنہ اور بھی محفل میں سحر گر آئے
ذرا سا دل میں جنوں کا خیال گزرا تھا
کہ میرے صحن میں ہر سمت سے پتھر آئے
کسے ہے شک بھلا اس بات کی صداقت میں
جو جی کی جی میں رہے اور آنکھ بھر آئے
کبھی تو من کو جلاتی ہیں اس طرح یادیں
ہوا کہ جیسے کبھی آگ کو چھو کر آئے
اڑان لے گیا کوئی گرفت سے عابد
ہمارے ہاتھ تو بس پنچھی اور پر آئے
عابد بنوی
No comments:
Post a Comment