لذتِ انتظار بھی، میں بھی
منتظر رہگزار بھی، میں بھی
دور تک ساتھ ساتھ چلتے رہے
ساعتِ سوگوار بھی، میں بھی
خود اسیری کی ایک منزل پر
راستے کا غبار بھی، میں بھی
تنگ اک دوسرے کی وحشت سے
پھیلتا ریگزار بھی، میں بھی
دیکھیے کون پہلے ٹوٹتا ہے
کھنچ گیا ہے حصار بھی، میں بھی
عابد سیال
No comments:
Post a Comment