Sunday, 4 October 2020

رات کے دوسرے کنارے پر

 رات کے دوسرے کنارے پر

جانے کیا بات ہے کہ شام ڈھلے

خوفِ نادیدہ کے اشارے پر

جھلملاتے ہوئے چراغ کی لَو

مجھ سے کہتی ہے افتخار عارف

رات کے دوسرے کنارے پر

ایک رات اور انتظار میں ہے

کوئی چپکے سے دل میں کہتا ہے

رات پراپنا بس چلے نہ چلے

خواب تو اپنے اختیار میں ہے


افتخار عارف

No comments:

Post a Comment