Sunday, 4 October 2020

اجنبی سبزہ زاروں میں

 احوال ایک سفر کا


اجنبی سبزہ زاروں میں

حدِ نظر تک، بنفشہ کے پھول

اجنبی تو نہیں تھے، نہ ہیں

وہ تو راہِ سفر کے اجالے بھی تھے

ہمسفر بھی لگے

داستانیں سناتے بھی تھے

اور سنتے بھی تھے

اب کے موسم تمہیں یاد کرتے رہے

اور میں چپ رہی


ادا جعفری

No comments:

Post a Comment