Sunday, 4 October 2020

کہ وہ اب تک نہیں پلٹا

 کہ وہ اب تک نہیں پلٹا


اجالا سسکیاں لیتا رہا گھر میں

دِیا دہلیز پر جلتا رہا

جس کو

کسی جاں بخش ساعت میں

مقدس آگ سے روشن کیا، اس نے

وہ انساں دیوتا تھا یا مسیحا تھا

وہ بھولا تو نہیں ہو گا

نہ جانے بے وفا دنیا کے کتنے کام تھے اس کو

نہ جانے کتنے دھندے تھے

کہ وہ اب تک نہیں پلٹا

دِیا تو صبح ہونے تک سدا جلتا ہی رہتا ہے

کوئی اتنا بتا دیتا

کہ وہ جن راستوں میں ہے

وہاں اس کو اندھیرا تو نہیں ملتا؟


ادا جعفری

No comments:

Post a Comment