Monday, 5 December 2016

زندگی دی ہے تو جینے کا ہنر بھی دینا

زندگی دی ہے تو جینے کا ہنر بھی دینا
پاؤں بخشے ہیں تو توفیقِ سفر بھی دینا
گفتگو تُو نے سکھائی ہے کہ میں گونگا تھا
اب جو بولوں گا تو باتوں میں اثر بھی دینا
میں تو اس خانہ بدوشی میں بھی خوش ہوں لیکن
اگلی نسلیں تو نہ بھٹکیں، انہیں گھر بھی دینا
ظلم اور صبر کا یہ کھیل مکمل ہو جائے
اس کو خنجر جو دیا ہے مجھے سر بھی دینا

معراج فیض آبادی

No comments:

Post a Comment