زندگی دی ہے تو جینے کا ہنر بھی دینا
پاؤں بخشے ہیں تو توفیقِ سفر بھی دینا
گفتگو تُو نے سکھائی ہے کہ میں گونگا تھا
اب جو بولوں گا تو باتوں میں اثر بھی دینا
میں تو اس خانہ بدوشی میں بھی خوش ہوں لیکن
ظلم اور صبر کا یہ کھیل مکمل ہو جائے
اس کو خنجر جو دیا ہے مجھے سر بھی دینا
معراج فیض آبادی
No comments:
Post a Comment