Saturday, 14 November 2020

ہم جو اک لہر میں لہراتے ہوئے جھومتے ہیں

 ہم جو اک لہر میں لہراتے ہوئے جھومتے ہیں

کیوں نہ ایسا ہو کہ ہم ساتھ ترے جھومتے ہیں

رقص درویش کا یہ سلسلہ دنیا سے نہ جوڑ

ہم کسی اور ہی لذت کے لیے جھومتے ہیں

ایسی منزل پہ لے آیا ہے میرا رقص مجھے

کئی سلسلے بھی ساتھ مرے جھومتے ہیں

ڈول جائے نہ ترے ڈولنے سے پرتوِ نور

ترے ہمراہ کئی شمع کدے جھومتے ہیں

ذرا دیکھو تو سہی اہل محبت کی طرف 

کتنی سرمستیاں آنکھوں میں لیے جھومتے ہیں 

روشنی راز ہے ایسا کہ سمجھ آنے پر 

کتنے سر گھومتے ہیں کتنے دِیے جھومتے ہیں 

میں اکیلا تو نہیں جھوم رہا ہوں سید

تارے بھی ساتھ مرے رات گئے جھومتے ہیں 


سید فضل گیلانی

No comments:

Post a Comment