Saturday, 14 November 2020

رقص کر رقص کہ یہ سوزش دیرینہ تھمے

 رقص کر رقص

کہ یہ سوزشِ دیرینہ تھمے

معبدِ جسم میں خواہش کی بھڑکتی آتش

ہجر کے سوگ میں روئی ہوئی آنکھوں کی جلن اور چبھن 

پاؤں سے باندھی ہوئی دشت و بیاباں کی مسافت کی تھکن

کھول

کھول یہ بے سر و سامانی کی گٹھری اور دیکھ

کیسی نایاب تمناؤں کے اجلے موسم

کاسنی رنگ میں بھیگے ہوئے خوابوں کے بدن

سانس گھٹ جانے سے مرنے لگے ہیں

سانس لے

اپنی تنہائی کے سیلن زدہ اس غار سے باہر آ کر

دیکھ اس بھید بھرے دل کی فراوانی کو

خوشبوؤں اور محبت سے مہکتی ہوئی حیرانی کو

جذب کر

خوں میں اتار

اور اسے روح میں بھر

رقص کر 

رقص


علی زریون

No comments:

Post a Comment