Saturday, 14 November 2020

شرم اتاری سامنے آ کر رقص کیا

 ہم نے پورا زور لگا کر رقص کیا

شرم اتاری سامنے آ کر رقص کیا

دنیا مستوں کو بے علم سمجھتی تھی

ہم نے پھر قرآن سنا کر رقص کیا

جس نے ہم کو روکنا چاہا ناچنے سے

اس کی آنکھ سے آنکھ ملا کر رقص کیا

تال اٹھائی ہم نے دل کی دھڑکن سے

اور سانسوں کا نغمہ گا کر رقص کیا

ایک مقام پہ نور بھی جلنے لگتا ہے

اور وہاں پر خاک نے جا کر رقص کیا

تم نے صرف بدن سے اس کو پوجا ہے

ہم نے روح کو ساتھ ملا کر رقص کیا

صبر کا دامن چھوڑ دیا مٹی نے اور

اپنے چاک کو آپ گھما کر رقص کیا

اپنے درد دھوئیں میں سانسیں لی میں نے

اپنے اندر آگ جلا کر رقص کیا

چھوڑ دیا مچھلی کو واپس دریا میں

اور پھر اپنا ہجر منا کر رقص کیا

وہم کو اپنے سامنے لا کر رقص کیا

اسم پہ اک تصویر سجا کر رقص کیا

بلھے کی خاموشی سے حیرت پائی

باہو کی نگری میں جا کر رقص کیا

ہولی کھیلی پیر نظام الدین کے ساتھ

اور خسرو کو ساتھ ملا کر رقص کیا

یار منانے کی خاطر سب ناچے ہیں

میں نے اپنا یار منا کر رقص کیا


ندیم بھابھہ

No comments:

Post a Comment