Saturday, 14 November 2020

سانس کے بخیوں کو سینا ہی نہیں آتا تھا

 سانس کے بخیوں کو سینا ہی نہیں آتا تھا

ہمیں جینے کا قرینہ ہی نہیں آتا تھا

چاہ تو تھی اسے دے دوں کوئی گمنام سی سمت

میرے قابو میں سفینہ ہی نہیں آتا تھا

پاؤں بے ساختہ اٹھتے رہے تاریکی میں

آگے آنکھوں کے وہ زینہ ہی نہیں آتا تھا

کہنے والوں نے روایت بھی بدل ڈالی تھی

سانپ کے ساتھ خزینہ ہی نہیں آتا تھا

ذہن بھی مانتا تھا لوگ بھی کہتے تھے مگر

دل میں اس کے لیے کینہ ہی نہیں آتا تھا

گفتگو ہوتی تھی خاموش پڑے رہتے تھے ہم

زہر موجود تھا،۔ پینا ہی نہیں آتا تھا

جس میں اک شام کو محفوظ بنانا تھا مجھے

سال بھر میں وہ "مہینہ" ہی نہیں آتا تھا

آنکھیں دیکھی ہی نہیں جاتی تھیں ورنہ احسان

سامنے تیر کے سینہ ہی نہیں آتا تھا


احسان اصغر

No comments:

Post a Comment