سانس کے بخیوں کو سینا ہی نہیں آتا تھا
ہمیں جینے کا قرینہ ہی نہیں آتا تھا
چاہ تو تھی اسے دے دوں کوئی گمنام سی سمت
میرے قابو میں سفینہ ہی نہیں آتا تھا
پاؤں بے ساختہ اٹھتے رہے تاریکی میں
آگے آنکھوں کے وہ زینہ ہی نہیں آتا تھا
کہنے والوں نے روایت بھی بدل ڈالی تھی
سانپ کے ساتھ خزینہ ہی نہیں آتا تھا
ذہن بھی مانتا تھا لوگ بھی کہتے تھے مگر
دل میں اس کے لیے کینہ ہی نہیں آتا تھا
گفتگو ہوتی تھی خاموش پڑے رہتے تھے ہم
زہر موجود تھا،۔ پینا ہی نہیں آتا تھا
جس میں اک شام کو محفوظ بنانا تھا مجھے
سال بھر میں وہ "مہینہ" ہی نہیں آتا تھا
آنکھیں دیکھی ہی نہیں جاتی تھیں ورنہ احسان
سامنے تیر← کے سینہ ہی نہیں آتا تھا
احسان اصغر
No comments:
Post a Comment