آشوبِ وطن
(ماخوذ از کلام امیر جان صبوری)
شہر خالی رستے خالی گلیاں خالی خانہ خالی
جام خالی، میز خالی، ساغر و پیمانہ خالی
چل دئیے ہیں دوستوں اور بلبلوں کے قافلے
باغ خالی، شاخیں خالی، اور خالی گھونسلے
وائے اے دنیا کہ یار اب یار سے ڈرنے لگے
پیاسے غنچے اپنے ہی گلزار سے ڈرنے لگے
عاشق اب محبوب کے دیدار سے ڈرنے لگے
موسیقار اب ساز ہی کے تار سے ڈرنے لگے
شہسوار اب رستۂ ہموار سے ڈرنے لگے
دیکھنے کو چارہ گر بیمار سے ڈرنے لگے
ساز ٹوٹے اور دردِ شاعراں حد سے بڑھا
شاق گزرا ہم پہ تم پہ انتظارِ سالہا
جو شناسا تھے ہمارے ہو گئے نا آشنا
ایسا کہنا بھی ہے جیسے کوئی آفت یا بلا
نال و شیون کیا ہر در پہ دی میں نے صدا
خاکِ ویرانہ سے اپنے سر کو آلودہ کیا
پھر بھی ساکت پانیوں میں کوئی نہ حرکت ہوئی
خواب غفلت میں جو ڈوبے آنکھ نہ ان کی کھلی
خشک چشمے ہو گئے دریا بہت ہی کم رواں
آسمان بھی ہنس دیا سن کر ہماری داستاں
عشق محرومِ حبیب جام خالی جوش سے
ہمدرد کوئی بھی نہیں جو میرے نالے کو سنے
لوٹ آؤ تا کہ لوٹیں جانے والے قافلے
لوٹ آؤ پھر اٹھائیں ناز اہلِ ناز کے
لوٹ آؤ تاکہ لوٹے مطرب و آہنگ و ساز
زلف پھیلاؤ کہ لوٹے پھر نگارِ دلنواز
در پہ حاضر مظؔہری ہوں حافظِ شیراز کے
پھول برسیں چھلکیں ساغر مۓ خوش انداز کے
ضیاء المظہری
https://youtu.be/3DmtFF7AKBg
ReplyDeletelink added with the post, thanks for your visit.
Delete