ایسا نہیں کہ آتے ہی لاری ملی ہمیں
ہم دھول ہو گئے تو سواری ملی ہمیں
جانباز ہار مان چکے تھے اور اس طرف
تب جشن کا سماں تھا کہ باری ملی ہمیں
دریا میں ہاتھ پاؤں نہیں مارنے پڑے
اک لہر ایسی جاری و ساری ملی ہمیں
ہم سے گلے ملا تو وہ خواہش سے خالی تھا
سب پیڑ کٹ چکے تھے جب آری ملی ہمیں
دل سے بُھلا دیا تو ہمارا ہوا کوئی
رستے سے ہٹ گئے تو سواری ملی ہمیں
شاہد نواز
No comments:
Post a Comment