Friday, 15 April 2022

ایسا نہیں کہ آتے ہی لاری ملی ہمیں

 ایسا نہیں کہ آتے ہی لاری ملی ہمیں

ہم دھول ہو گئے تو سواری ملی ہمیں

جانباز ہار مان چکے تھے اور اس طرف

تب جشن کا سماں تھا کہ باری ملی ہمیں

دریا میں ہاتھ پاؤں نہیں مارنے پڑے

اک لہر ایسی جاری و ساری ملی ہمیں

ہم سے گلے ملا تو وہ خواہش سے خالی تھا

سب پیڑ کٹ چکے تھے جب آری ملی ہمیں

دل سے بُھلا دیا تو ہمارا ہوا کوئی

رستے سے ہٹ گئے تو سواری ملی ہمیں


شاہد نواز

No comments:

Post a Comment