Sunday, 6 June 2021

میں خالی ہاتھ جو اظہار کرنا جانتا تھا

 میں خالی ہاتھ جو اظہار کرنا جانتا تھا

تُو پھول لے کے وہ انکار کرنا جانتا تھا

وہ ناؤ سے جو اگر چھیڑتا تھا دریا کو

تُو تیر کر بھی اسے پار کرنا جانتا تھا

جو شخص آیا تھا دیوار کُود کر دل میں

ڈرا ہوا تھا، مگر پیار کرنا جانتا تھا

یونہی فسُردہ نہ تھا خشک پیڑ کٹنے پر

اک آدھ شاخ ثمردار کرنا جانتا تھا

یہ بات فیصلہ کُن مرحلے میں مجھ پہ کھُلی

وہ اپنا ہاتھ بھی تلوار کرنا جانتا تھا


شاہد نواز

No comments:

Post a Comment