Sunday, 6 June 2021

یہ جو تھم تھم کے اتنا بہتا ہے

 یہ جو تھم تھم کے اتنا بہتا ہے

میری آنکھوں میں کیسا دریا ہے

میں تو یوں ہی اُداس ہوں چھت پر

چاند کیوں آسماں پہ تنہا ہے؟

جانتی اس کے خال و خد بھی نہیں

مجھ میں جو شخص چھُپ کے بیٹھا ہے

تُو فقط پھُول ٹانکتا تھا اور

میری زُلفوں کا رنگ نکھرا ہے

شبنمی شبنمی سی ہے یہ صبح

رات آنگن میں کون رویا ہے


مدیحہ شوق

No comments:

Post a Comment