یہ جو تھم تھم کے اتنا بہتا ہے
میری آنکھوں میں کیسا دریا ہے
میں تو یوں ہی اُداس ہوں چھت پر
چاند کیوں آسماں پہ تنہا ہے؟
جانتی اس کے خال و خد بھی نہیں
مجھ میں جو شخص چھُپ کے بیٹھا ہے
تُو فقط پھُول ٹانکتا تھا اور
میری زُلفوں کا رنگ نکھرا ہے
شبنمی شبنمی سی ہے یہ صبح
رات آنگن میں کون رویا ہے
مدیحہ شوق
No comments:
Post a Comment