ہر چند زمانہ بھی زمانے کا نہیں ہے
کچھ ایسا تماشا کہ دکھانے کا نہیں ہے
کچھ اشک جو آنکھوں میں سمٹتے ہی نہیں ہیں
اک درد جو سینے میں دبانے کا نہیں ہے
تم مجھ سے بچھڑنے کا کہیں ذکر نہ کرنا
یہ واقعہ بچوں کو سنانے کا نہیں ہے
گر نام مِرا مانگ رہی ہے یہ کہانی
لکھ دینا کہ یہ شخص بتانے کا نہیں ہے
حاضر ہے مِرا سر کہ میں ان کا ہوں مجاور
یہ سر تو کسی در پہ جھکانے کا نہیں ہے
زندہ ہے مِرا شوقِ اذیت کہ یہاں ہوں
مر کر بھی یہ ویسے کہیں جانے کا نہیں ہے
تتلی ہے کہ ہر روز بدل دیتی ہے گلشن
جگنو تو نئی روشنی لانے کا نہیں ہے
باقی یہ گزارے گا کہاں عمر کہ اب تک
وعدہ بھی کوئی ساتھ نبھانے کا نہیں ہے
وجاہت باقی
No comments:
Post a Comment