کتنا مشکل ہے کسی دل میں اتر جانے کا فن
کب ہمیں آیا نگاہوں میں ٹھہر جانے کا فن
ہم تو دشمن کو بھی مِیت اپنا بنا لیتے ہیں
کیا ہمیں آئے گا یاروں سے ٹکر جانے کا فن
ہم اسیرانِ محبت کو قفس ہی ہے راس
یاد رہتا ہے ہمیں پر اپنے کتر جانے کا فن
ہم کو فن آیا ہے زیست اس پہ فدا کرنے کا
اس کو آیا ہے فقط سچ سے مُکر جانے کا فن
کچھ کرم اپنوں کا شامل ہے ستم غیروں کا کچھ
سہل لگتا ہے بہت جاں سے گزر جانے کا فن
صائمہ شہاب
No comments:
Post a Comment