خوابوں کے درمیان پڑی زندگی
وہ حکمران اعلیٰ کے جوتوں سے
اتری ہوئی مٹی کو
اپنی مٹھی میں بھینچ کر
خوش ہو جاتے ہیں
شہر کا وزیر
اپنے تکیے کے نیچے
خفیہ خانے کی چابی رکھ کر سوتا ہے
اسے ساری رات
نقشوں کے خواب آتے ہیں
شام فقیر کے کاسے میں
اداسی اوڑھ کر لیٹی رہتی ہے
وہ سارا دن
روشنی کی بھیگ مانگتا ہے
پکھی واسوں کے شریر بچے
خالی گلیوں میں سُوکھی روٹی کو
پانی اور آنسوؤں میں بھگو کر
اپنی بھوک کو تر کرتے رہتے ہیں
اور میں ٹیرس پر بیٹھا
کوؤں کے شور میں
اپنے خالی پن کو
خوابوں سے بھر رہا ہوں
بھلا کوئی بتا سکتا ہے
خوابوں کی ترتیب لگا کر
کیا ہم اپنی مرضی سے
زندگی کی کوئی شکل بنا سکتے ہیں
اویس سجاد
No comments:
Post a Comment