شام کے غبار میں
ہوں کسی حصار میں
زندگی گزار دوں
تیرے انتظار میں
بُھول جاؤں راستہ
میں تیرے دیار میں
ہجر کا گُمان ہے
وصل کے قرار میں
ہے تِری مہک بسی
بازوؤں کے ہار میں
گھاس میں ہی تتلیاں
پھول ہیں چنار میں
چُھو مجھے خیال میں
جیت مجھ کو ہار میں
سلطنت قیصر
No comments:
Post a Comment