Saturday, 24 July 2021

ہم بزرگوں کی آن چھوڑ آئے

 ہم بزرگوں کی آن چھوڑ آئے

خاندانی مکان چھوڑ آئے

اس قبیلے میں سارے گونگے تھے

ہم جہاں پر زبان چھوڑ آئے

اس کا دروازہ بند پایا تو

دستکوں کے نشان چھوڑ آئے

روٹی کپڑے مکان کی خاطر

روٹی کپڑا مکان چھوڑ آئے

ایک اس کو تلاش کرنے میں

ہم زمیں آسمان چھوڑ آئے

اب سفر ہے یقین کی جانب

وسوسے اور گمان چھوڑ آئے


ندیم ماہر

No comments:

Post a Comment