مِری حالت پہ نہ تم مسکراؤ
نہ میرے عشق پہ تہمت لگاؤ
تجھے راتوں کو اٹھ اٹھ کر پکاروں
مِری آنکھوں میں بھی سپنے سجاؤ
مِری قسمت میں تیرا ساتھ ہے کیا؟
اگر ہے ساتھ تو اس کو نبھاؤ
مِری ہر سانس ہے تیری امانت
چلو اپنی امانت کو اٹھاؤ
تِری صورت مِرے دل میں بسی ہے
اسے آ کر ذرا تم دیکھ جاؤ
سنو اک بات کہنی ہے مجھے بھی
سنو اک بار ملنے پھر سے آؤ
اٹھو سلمان چلتے ہیں وہاں پر
جہاں لگتے نہیں دل پر ہیں گھاؤ
سلمان صدیق
No comments:
Post a Comment