Monday, 4 April 2022

تلخ لفظوں کے وار کرتے ہیں

 تلخ لفظوں کے وار کرتے ہیں

اور کہتے ہیں پیار کرتے ہیں

ہم سخاوت ہی مان بیٹھے تھے

لوگ شہرت شمار کرتے ہیں

سچ تو یہ ہے کہ جھوٹ کہتے ہیں

جن کا ہم اعتبار کرتے ہیں

پھر وفائیں ہی بھول جاتے ہیں

پیار جو بار بار کرتے ہیں

ہم کو جنت کی آس ہے پھر بھی

ہم گُنہ بے شمار کرتے ہیں

ہم درندوں سے ڈرنے والے ہیں

فاختائیں شکار کرتے ہیں 

عقل سے دور دور رہتے ہیں

عشق سر پر سوار کرتے ہیں

خواب پلکوں کی نوک پر اتریں

تو فضا سوگوار کرتے ہیں

آپ چاہے فریب دے جائیں

آپ کا اعتبار کرتے ہیں

سادگی میں بھی حسن شامل ہے

آ اسے اختیار کرتے ہیں 

اپنا آنچل ذرا سا لہرا کر

ہم خزاں کو بہار کرتے ہیں

وقت ہم کو بھی کچھ دیا کیجے

آپ کا انتظار کرتے ہیں 

آپ کو بھول ہی نہیں سکتے

آپ ہی سے تو پیار کرتے ہیں


مہناز بنجمن

No comments:

Post a Comment