تلخ لفظوں کے وار کرتے ہیں
اور کہتے ہیں پیار کرتے ہیں
ہم سخاوت ہی مان بیٹھے تھے
لوگ شہرت شمار کرتے ہیں
سچ تو یہ ہے کہ جھوٹ کہتے ہیں
جن کا ہم اعتبار کرتے ہیں
پھر وفائیں ہی بھول جاتے ہیں
پیار جو بار بار کرتے ہیں
ہم کو جنت کی آس ہے پھر بھی
ہم گُنہ بے شمار کرتے ہیں
ہم درندوں سے ڈرنے والے ہیں
فاختائیں شکار کرتے ہیں
عقل سے دور دور رہتے ہیں
عشق سر پر سوار کرتے ہیں
خواب پلکوں کی نوک پر اتریں
تو فضا سوگوار کرتے ہیں
آپ چاہے فریب دے جائیں
آپ کا اعتبار کرتے ہیں
سادگی میں بھی حسن شامل ہے
آ اسے اختیار کرتے ہیں
اپنا آنچل ذرا سا لہرا کر
ہم خزاں کو بہار کرتے ہیں
وقت ہم کو بھی کچھ دیا کیجے
آپ کا انتظار کرتے ہیں
آپ کو بھول ہی نہیں سکتے
آپ ہی سے تو پیار کرتے ہیں
مہناز بنجمن
No comments:
Post a Comment