Monday, 4 April 2022

اک اشک بہا ہو گا اک شعر ہوا ہو گا

 اک اشک بہا ہو گا

اک شعر ہوا ہو گا

چپ چاپ پڑے ہیں ہم

دل راکھ ہوا ہو گا

اک خواب سہارا تھا

وہ ٹوٹ گیا ہو گا

دل نے تو ان آنکھوں پر

الزام دھرا ہو گا

ہے عشق تو ہے ہم کیش

دل میں کوئی تھا ہو گا

کیا نور تھا پانی میں

آنکھوں سے بہا ہو گا

پھر یار نہیں آئے

پھر جام دھرا ہو گا

اک شعلہ فزوں ہو کر

جلتا بھی رہا ہو گا

شب خواب میں آیا وہ

کیا کیا نہ ہوا ہو گا

تاثیر کہاں سچ میں

کچھ جھوٹ کہا ہو گا

اس دل کے خرابے میں

اک شہر بسا ہو گا

مٹھی میں ہے دل کیسے

رستے میں ملا ہو گا

کہنے کی نہیں باتیں

باتوں سے بھی کیا ہو گا

اک خواب تمنا نے

برباد کیا ہو گا

وہ سوختہ سر تھا کون

ہو گا تو عطا ہو گا


احمد عطا

No comments:

Post a Comment