اک اشک بہا ہو گا
اک شعر ہوا ہو گا
چپ چاپ پڑے ہیں ہم
دل راکھ ہوا ہو گا
اک خواب سہارا تھا
وہ ٹوٹ گیا ہو گا
دل نے تو ان آنکھوں پر
الزام دھرا ہو گا
ہے عشق تو ہے ہم کیش
دل میں کوئی تھا ہو گا
کیا نور تھا پانی میں
آنکھوں سے بہا ہو گا
پھر یار نہیں آئے
پھر جام دھرا ہو گا
اک شعلہ فزوں ہو کر
جلتا بھی رہا ہو گا
شب خواب میں آیا وہ
کیا کیا نہ ہوا ہو گا
تاثیر کہاں سچ میں
کچھ جھوٹ کہا ہو گا
اس دل کے خرابے میں
اک شہر بسا ہو گا
مٹھی میں ہے دل کیسے
رستے میں ملا ہو گا
کہنے کی نہیں باتیں
باتوں سے بھی کیا ہو گا
اک خواب تمنا نے
برباد کیا ہو گا
وہ سوختہ سر تھا کون
ہو گا تو عطا ہو گا
احمد عطا
No comments:
Post a Comment