یادِ جاناں کا فسوں کچھ کم ہے
اب محبت میں جنوں کچھ کم ہے
تیرے ہوتے ہوئے بھی راحت جاں
بے سکونی ہے سکوں کچھ کم ہے
کچھ طبیعت میں بھی وہ جوش نہیں
اور رگِ جاں میں بھی خوں کچھ کم ہے
ہجر سے پہلے زبوں حال تھے ہم
ہجر میں حالِ زبوں کچھ کم ہے
ہم نے ہی کی ہے محبت میں وفا
تیرا احسان بھی یوں کچھ کم ہے
وہ اکڑ فوں نہیں اب اس میں بھی
میرے لہجے میں بھی ہوں کچھ کم ہے
آئے ہیں آپ عیادت کے لیے
اور اب سوزِ دروں کچھ کم ہے
جاوید اکرم
No comments:
Post a Comment