تمہی کو گنگناتا ہوں
کبھی آواز کی لہروں پہ بہتے
خال و خد کے لمس کو جاناں
چراغِ عشق کے پہلو میں بیٹھ اور بن
سمے کی دھڑکنوں کو سن
جمالِ عشق کی درگاہ سے
کچھ آتشیں لمحے
سبک رفتار سی دھڑکن کی ڈوری سے
کبھی باندھو تو پھر دیکھو
یہ دل کیسے دھڑکتا ہے
انا کا آخری زینہ
یہ من کیسے اترتا ہے
میں اک مدت سے
کچھ نظموں کی انگلی تھام کے جاناں
تِرے آنچل کی چھایا میں
دھنیں ترتیب دیتا ہوں
تکلم کے دریچوں سے
ہواؤں کی ہتھیلی پر
انہیں رکھ کر اڑاتا ہوں
تمہی کو گنگناتا ہوں
ارشد ملک
No comments:
Post a Comment