اب دل سے مِرے خوئے محبت نہیں جاتی
سنتا ہوں کہ آسانی سے یہ لت نہیں جاتی
ہم جانتے ہیں اس میں ہے نقصان سراسر
اب کیا کریں ہم سے یہ مروت نہیں جاتی
گفتار میں نرمی ہو تو بنتے ہیں کئی کام
لہجہ ہو اگر نرم، تو عزت نہیں جاتی
تعلیم بھی آئی ہے ترقی بھی ہے، لیکن
کیوں تیرے قبیلے سے جہالت نہیں جاتی
اللہ کاڈر بھی ہے قیامت کا بھی ہے خوف
اور دِل سے گناہوں کی محبت نہیں جاتی
تدبیر بھی لازم ہے دعائیں بھی ضروری
فریاد ہی کرنے سے مصیبت نہیں جاتی
ہم تم جسے آپس کی محبت ہیں سمجھتے
بھولے سے بھی اس سمت سیاست نہیں جاتی
تم بھی گئے اوجھل ہوئی تصویر تمہاری
آنکھوں میں جو پِھرتی ہے وہ صورت نہیں جاتی
عاقب کو وراثت میں ملا گنجِ قناعت
کتنا ہی کریں خرچ یہ دولت نہیں جاتی
حسنین عاقب
No comments:
Post a Comment