Monday, 4 April 2022

وہ کیسی عورتیں تھیں جو گیلی لکڑیوں کو پھونک کر

 وہ کیسی عورتیں تھیں


جو گیلی لکڑیوں کو پھونک کر چولہا جلاتی تھیں

جو سِل پر سرخ مرچیں پیس کر سالن پکاتی تھیں

سحر سے شام تک مصروف، لیکن مسکراتی تھیں

بھری دوپہر میں سر اپنا جو ڈھک کر ملنے آتی تھیں

جو پنکھے ہاتھ کے جھلتی تھیں اور بس پان کھاتی تھیں

جو دروازے پہ رک کر دیر تک رسمیں نبھاتی تھیں

پلنگوں پر نفاست سے دری چادر بچھاتی تھیں

بصد اصرار مہمانوں کو سرہانے بٹھاتی تھیں

اگر گرمی زیادہ ہو تو روح افزا پلاتی تھیں

جو اپنی بیٹیوں کو سوئیٹر بُننا سکھاتی تھیں

سلائی کی مشینوں پر کڑے روزے بتاتی تھیں

بڑی پلیٹوں میں جو افطار کے حصے بناتی تھیں

جو کلمے کاڑھ کر لکڑی کے فریموں میں سجاتی تھیں

دعائیں پُھونک کر بچوں کو بستر پر سُلاتی تھیں

اور اپنی جاء نمازیں موڑ کر تکیہ لگاتی تھیں

کوئی سائل جو دستک دے اسے کھانا کھلاتی تھیں

پڑوسن مانگ لے کچھ با خوشی دیتی دلاتی تھیں

جو رشتوں کو برتنے کے کئی نسخے بتاتی تھیں

محلے میں کوئی مر جائے تو آنسو بہاتی تھیں

کوئی بیمار پڑ جائے تو اس کے پاس جاتی تھیں

کوئی تہوار ہو تو خوب مِل جل کر مناتی تھیں

وہ کیسی عورتیں تھیں

میں جب گھر اپنے جاتی ہوں تو فُرصت کے زمانوں میں

انہیں ہی ڈھونڈھتی پھرتی ہوں گلیوں اور مکانوں میں

کسی میلاد میں جُزدان میں تسبیح دانوں میں

کسی بر‌آمدے کے طاق پر باورچی خانوں میں

مگر اپنا زمانہ ساتھ لے کر کھو گئی ہیں وہ

کسی اک قبر میں ساری کی ساری سو گئی ہیں وہ


اسنیٰ بدر

No comments:

Post a Comment