Monday, 4 April 2022

کوئی درخت کوئی سائباں رہے نہ رہے

  کوئی درخت کوئی سائباں رہے نہ رہے 

بزرگ زندہ رہیں، آسماں رہے نہ رہے 

کوئی تو دے گا صدا حرف حق کی دنیا میں 

ہمارے منہ میں ہماری زباں رہے نہ رہے 

ہمیں تو پڑھنا ہے میدان جنگ میں بھی نماز 

مؤذنوں کے لبوں پر اذاں رہے نہ رہے 

ہمیں تو لڑنا ہے دنیا میں ظالموں کے خلاف 

قلم رہے کوئی تیر و کماں رہے نہ رہے 

خدا کرے گا سمندر میں رہنمائی بھی 

یہ ناؤ باقی رہے، بادباں رہے نہ رہے


رئیس انصاری

No comments:

Post a Comment