میرا دکھ کوئی نہیں سمجھتا
میں اس گورکن کی طرح ہوں
جس کو اپنی رزق کے لیے کسی کی موت
کا انتظار کرنا پڑتا ہے
کسی ہسپتال کی ایمرجنسی کے باہر
کھڑے قطار در قطار ایمبولنس والے ڈرائیور
حضرات کی طرح ہوں
جو کسی بے بس انسان کے منتظر ہوتے ہیں
میں اس پرندے کا دکھ ہوں
جو اک دانہ کے پیچھے اپنی زندگی داؤ پہ
لگا دیتا ہے
میں اس عورت کی طرح ہوں
جسے اپنی ناپسندیدہ شخص کے ساتھ
بھی پوری عمر بِتانی پڑے
میں اس ماں کا دکھ ہوں
جو ساری زندگی اپنے لاپتہ بیٹے
کے انتظار میں بستر مرگ پہ دم توڑتی ہے
شاہد بزدار
No comments:
Post a Comment