Monday, 4 April 2022

میرا دکھ کوئی نہیں سمجھتا

 میرا دکھ کوئی نہیں سمجھتا 

میں اس گورکن کی طرح ہوں

جس کو اپنی رزق کے لیے کسی کی موت

کا انتظار کرنا پڑتا ہے

کسی ہسپتال کی ایمرجنسی کے باہر

کھڑے قطار در قطار ایمبولنس والے ڈرائیور

حضرات کی طرح ہوں

جو کسی بے بس انسان کے منتظر ہوتے ہیں

میں اس پرندے کا دکھ ہوں 

جو اک دانہ کے پیچھے اپنی زندگی داؤ پہ

لگا دیتا ہے

میں اس عورت کی طرح ہوں 

جسے اپنی ناپسندیدہ شخص کے ساتھ 

بھی پوری عمر بِتانی پڑے

میں اس ماں کا دکھ ہوں 

جو ساری زندگی اپنے لاپتہ بیٹے 

کے انتظار میں بستر مرگ پہ دم توڑتی ہے


شاہد بزدار

No comments:

Post a Comment