گھر کے نقش و نگار کی صورت
نقش ہے دل پہ یار کی صورت
اف یہ دم توڑتی ہوئی شمعیں
انکھڑیوں میں خمار کی صورت
ہر دریچے میں ہے چراغ کا گل
اب ہے یہ انتظار کی صورت
اب دھڑکتا ہے بار بار دماغ
دل بے اختیار کی صورت
بس یوں ہی آتے جاتے ملتے ہیں
ہم بھی لیل و نہار کی صورت
اس کا آنا بھی اک قیامت تھا
محشر انتظار کی صورت
گرد کی طرح بیٹھ جائیں گے
جو اٹھے ہیں غبار کی صورت
اپنی محرومیوں کا جشن منائیں
آؤ جشن بہار کی صورت
یہ صدی بھی گزر ہی جائے گی
شتر بے مہار کی صورت
واں بھی سہتی ہے دھوپ کی یلغار
شجر سایہ دار کی صورت
سر طوفاں گزار لو نقوی
اک یہی ہے قرار کی صورت
محمد احمد نقوی
No comments:
Post a Comment