رہا نہ کوئی خفا دیکھ کر تِرا چہرا
ملی سبھی کو شفا دیکھ کر ترا چہرا
ردیف مست ہوئی، قافیہ مچل اٹھا
غزل ہوئی ہے جدا دیکھ کر ترا چہرا
مریضِ عشق نے پائی نجات آفت سے
وہ باغ باغ ہوا دیکھ کر ترا چہرا
مکان سارا ہوا تیرے آنے سے روشن
چراغ خود ہی جلا دیکھ کر ترا چہرا
پڑا تھا کونے میں مُردہ زمانے سے بسمل
یہ دل دھڑکنے لگا دیکھ کر ترا چہرا
مرتضیٰ بسمل
No comments:
Post a Comment