اجاڑ ساحل و صحرا، خموش ویرانے
کہاں کہاں نہ گیا میں خرد کو سمجھانے
نہیں کہیں بھی تِری چشمِ انگبیں سا نشہ
اگرچہ شہر میں بکھرے پڑے ہیں میخانے
میں اپنی بات کو خود ہی کہوں تو بہتر ہے
وگرنہ دنیا سنائے گی اپنے افسانے
وہ بزمِ غیر کو جاتے یہاں سے گزرا تھا
بس اتنی بات پہ ہم بھی لگے ہیں اترانے
یہ آگ قابو میں رکھنے کو اب ضروری ہے
وہاں نہ شمع جلے جس جگہ ہوں پروانے
یہ لوگ لگتے تو ہوں گے تجھے بھی اپنے سے
دھیان کر مِرے تنہا، سبھی ہیں بے گانے
میر تنہا یوسفی
No comments:
Post a Comment