Tuesday, 14 December 2021

مجھ سے کیوں چھین لی ہے خاموشی

 مجھ سے کیوں چھین لی ہے خاموشی

میری تو زندگی ہے خاموشی

شور سے ریزہ ریزہ ہو کر بھی

خامشی میں پڑی ہے خاموشی

چاند تب کروٹیں بدلتا ہے 

بال جب کھولتی ہے خاموشی

میں کئی دن سے کھو گیا ہوں کہیں

اس لیے رو رہی  ہے خاموشی

 حالِ دل جب بھی میں سناتا ہوں

زور سے چیختی ہے خاموشی

جس طرح ہو کوئی حسیں دلہن

یوں سجا کے رکھی ہے خاموشی

 

مرتضیٰ بسمل

No comments:

Post a Comment