Tuesday, 14 December 2021

خوشی سے ربط نہ رکھ غم سے سلسلہ نہ ملا

 خوشی سے ربط نہ رکھ غم سے سلسلہ نہ ملا

دوا میں زہر ملا زہر میں دوا نہ ملا

میں اپنا پیار بھرا دل کسی کو کیا دیتی

تمہارے جیسا حسیں کوئی دوسرا نہ ملا

بہت تلاش کیا ہم نے شہر و صحرا میں

خدا کے چاہنے والے ملے خدا نہ ملا

جمی تھی گرد ہوس دوستوں کے چہروں پر

بقدر ظرف نظر کوئی آشنا نہ ملا

مِری اناؔ کے شجر اس قدر گھنیرے تھے

ہوا چلی تو ہوا کو بھی راستہ نہ ملا


انا دہلوی

No comments:

Post a Comment