Tuesday, 14 December 2021

تم گزرنے والی ہو

 تم گزرنے والی ہو


خوشگوار موسم ہو

صبح کی ہواؤں میں

شہر کی فضاؤں میں

اجنبی سی خوشبو ہو

ڈال ڈال پر بیٹھے

خوش نما پرندے جب

اپنے وقت سے پہلے

چہچہانے لگتے ہوں

شہر کے مغنی بھی

وصل اور مسرت کے

گیت گانے لگتے ہوں

سادہ لوح محلوں کے

بن سنورنے لگتے ہوں

عید بھی نہ ہو لیکن

عید ملنے لگتے ہوں

چوکھٹوں کی بیلوں پر

پھول کھلنے لگتے ہوں

خاکروب گلیوں کو

صاف کرنے لگتے ہوں

پھول کی دکانوں پر

بھیڑ لگنے لگتی ہو

اس طرح کا موسم ہو

تو میں یہ بھانپ لیتا ہوں

دل کی سر زمیں پر تم

پاؤں دھرنے والی ہو

شہر کی کسی راہ سے

تم گزرنے والی ہو

تم گزرنے والی ہو


منیر فراز

No comments:

Post a Comment