تم گزرنے والی ہو
خوشگوار موسم ہو
صبح کی ہواؤں میں
شہر کی فضاؤں میں
اجنبی سی خوشبو ہو
ڈال ڈال پر بیٹھے
خوش نما پرندے جب
اپنے وقت سے پہلے
چہچہانے لگتے ہوں
شہر کے مغنی بھی
وصل اور مسرت کے
گیت گانے لگتے ہوں
سادہ لوح محلوں کے
بن سنورنے لگتے ہوں
عید بھی نہ ہو لیکن
عید ملنے لگتے ہوں
چوکھٹوں کی بیلوں پر
پھول کھلنے لگتے ہوں
خاکروب گلیوں کو
صاف کرنے لگتے ہوں
پھول کی دکانوں پر
بھیڑ لگنے لگتی ہو
اس طرح کا موسم ہو
تو میں یہ بھانپ لیتا ہوں
دل کی سر زمیں پر تم
پاؤں دھرنے والی ہو
شہر کی کسی راہ سے
تم گزرنے والی ہو
تم گزرنے والی ہو
منیر فراز
No comments:
Post a Comment