Tuesday, 14 December 2021

دریا کو دشت دشت کو دریا کہا گیا

 دریا کو دشت، دشت کو دریا کہا گیا

اس نامراد ملک میں کیا کیا کہا گیا

قاتل تو اصل و نسل کے ساقی کہے گئے

تشنہ لبوں کو خون کا پیاسا کہا گیا

حیرت تو یہ، ہم آئینہ سازوں کے روبرو

شیشوں کا پتھروں کو مسیحا کہا گیا

یکتا ہے میری قوم بڑی بد نصیب ہے

اس بد نصیب قوم کو يكتا کہا گیا

لاحق تھا جن کو عارضہ دن میں رتوند کا

حیرت ہے ان کو رات میں بینا کہا گیا

ہر کذب کو صداقتِ کل کا ملا خطاب

اور کاذبوں کو صدقِ سراپا کہا گیا

مقتل میں کہنیوں سے ٹپکتا تھا جن کے خوں

کیا ظلم ہے کہ ان کو مسیحا کہا گیا

پاؤں کی ایڑیوں میں تھی جن بزدلوں کی عقل

ان احمقوں کو عقلِ سراپا کہا گیا

محسن کشی کو شرطِ رفاقت دیا قرار

پھر اس کو مصلحت کا تقاضا کہا گیا

تائیدِ ایزدی کا یہ اعجاز دیکھیے

جو کچھ بھی بک دیا گیا، اچھا کہا گیا

لوگوں کو روشنی سے ڈرانے کے واسطے

سورج غریب آنکھ کا اندھا کہا گیا

فاقوں سے جس کو سانس بھی لینا محال تھا

محفل میں اس کو عشق کا مارا کہا گیا

جن صورتوں پہ زخم تھے جن سیرتوں پہ داغ

محفل میں ان کو انجمن آرا کہا گیا


خالد علیگ

No comments:

Post a Comment