Tuesday, 12 October 2021

جو ہونا چاہیے تھا وہ ویسا نہیں ہوا

 جو ہونا چاہیۓ تھا وہ ویسا نہیں ہوا

تجھ پر یقین آج بھی پختہ نہیں ہوا

اس میں تمہارے ہجر کے آنسو نہیں ملے

مہندی کا رنگ آج بھی گہرا نہیں ہوا

زنگار اس پہ سوچ کا لگنے نہیں دیا

دل تیری رنجشوں سے بھی میلا نہیں ہوا

مجھ کو سہولتیں کبھی آتی نہیں ہیں راس

اچھا ہی ہو گیا ہے کہ اچھا نہیں ہوا

اس کی بصارتوں کا بھی خانہ خراب ہو

جو شخص تجھ کو دیکھ کے اندھا نہیں ہوا

شہ رگ میں رہ کے میری رفاقت میں رہ گیا

تنہا جو ہے جہان میں تنہا نہیں ہوا


زہرا شاہ

No comments:

Post a Comment