جو ہونا چاہیۓ تھا وہ ویسا نہیں ہوا
تجھ پر یقین آج بھی پختہ نہیں ہوا
اس میں تمہارے ہجر کے آنسو نہیں ملے
مہندی کا رنگ آج بھی گہرا نہیں ہوا
زنگار اس پہ سوچ کا لگنے نہیں دیا
دل تیری رنجشوں سے بھی میلا نہیں ہوا
مجھ کو سہولتیں کبھی آتی نہیں ہیں راس
اچھا ہی ہو گیا ہے کہ اچھا نہیں ہوا
اس کی بصارتوں کا بھی خانہ خراب ہو
جو شخص تجھ کو دیکھ کے اندھا نہیں ہوا
شہ رگ میں رہ کے میری رفاقت میں رہ گیا
تنہا جو ہے جہان میں تنہا نہیں ہوا
زہرا شاہ
No comments:
Post a Comment