کیا کسی دام کا نہیں رہتا؟
جو تِرے کام کا نہیں رہتا
اک خماری ہے اسکی آنکھوں میں
لطف پھر جام کا نہیں رہتا
میں ستارہ ہوں آسمان کا جو
منتظر، شام کا نہیں رہتا
یہ جوانی الگ مصیبت ہے
خوف انجام کا نہیں رہتا
اچھا بننا عذاب ہے ذاکر
بندہ پھر کام کا نہیں رہتا
ذاکر حسین
No comments:
Post a Comment