لاشعور کی سرحد پر
زندگی کے امکان میں وسعت
شاعری کے بہاؤ کا پہلا
اور آخری منظر ہے
جس سے استفہام کی نوعیت کے ناخن
استعجاب کے سر کے بال
نوچ لیتے ہیں
اور آنکھیں نکال لیتے ہیں
نشیبی علاقے میں دلدل
صحرا میں پانی
سے مشابہت نہیں رکھتی
آب و ہوا کا تعلق
انسان کے اندرونی جذبات سے ہے
اکیلے پن میں بہار
دم گھٹنے کا موجب بن سکتی ہے
اور دھیان کی تختی پر
تمہارا نام
میرے دل کی نسیں کھول دیتا ہے
جس سے میں سرسبز ہو جاتی ہوں
تم میرے لیے
جھیل کے نیلے پانی سے زیادہ
حسین ہو
یہ سن کر آئینے کے اشک نمودار ہو گئے
اور کرٹن گر گیا
زہرا شاہ
No comments:
Post a Comment