Tuesday, 20 April 2021

لاشعور کی سرحد پر

 لاشعور کی سرحد پر

زندگی کے امکان میں وسعت

شاعری کے بہاؤ کا پہلا

اور آخری منظر ہے

جس سے استفہام کی نوعیت کے ناخن

استعجاب کے سر کے بال

نوچ لیتے ہیں

اور آنکھیں نکال لیتے ہیں

نشیبی علاقے میں دلدل

صحرا میں پانی

سے مشابہت نہیں رکھتی

آب و ہوا کا تعلق

انسان کے اندرونی جذبات سے ہے

اکیلے پن میں بہار

دم گھٹنے کا موجب بن سکتی ہے

اور دھیان کی تختی پر

تمہارا نام

میرے دل کی نسیں کھول دیتا ہے

جس سے میں سرسبز ہو جاتی ہوں

تم میرے لیے

جھیل کے نیلے پانی سے زیادہ

حسین ہو

یہ سن کر آئینے کے اشک نمودار ہو گئے

اور کرٹن گر گیا


زہرا شاہ

No comments:

Post a Comment