Tuesday, 20 April 2021

سزائے موت کا مژدہ

 سزائے موت کا مژدہ


یہ وہ ساحر ہے جن کے ہاتھ میں ہم سب کی جانیں ہیں

یہاں سورج کے قاتل کو عدالت چھوڑ دیتی ہے

سزائے موت کا مژدہ

نہ کوئی قید ہوتی ہے

جو سورج کو قتل کرتا ہے اس کو روشنی

تقسیم کرنے کی وزارت سونپ دیتے ہیں

یہ تاریکی کے سوداگر ہیں

سورج بلیک کرتے ہیں

انہیں ضد ہے ہوائیں، روشنی اور خواب خود بانٹیں

یہ موسم قرض دیتے ہیں

انہیں معلوم ہے کس کو کہاں مصروف رکھنا ہے

کسے آزاد رکھنا ہے

کہاں یہ جبر کا موسم، کہاں رُت ہو حکومت کی

یہ ساحر بند کمروں میں یہی اجلاس کرتے ہیں


طلعت اخلاق احمد

No comments:

Post a Comment