Tuesday, 12 January 2021

یہ خود بہل جائے گی طبیعت کسی کی کوئی کمی نہیں ہے

 یہ خود بہل جائے گی طبیعت کسی کی کوئی کمی نہیں ہے

مجھے دلاسوں کی کیا ضرورت میری مصیبت نئی نہیں ہے

سنا بہت تھا ہمارے قصے سبھی جریدوں میں چھپ چکے ہیں

میں پڑھ چکی ہوں یہ سارے کالم وہ اک خبر تو لگی نہیں ہے

یہ غم شراکت کا وہ ہی سمجھے جو اس اذیت میں مبتلا ہے

تم اتنے مغرور اس لیے ہو، تمہاری چاہت بٹی نہیں ہے

الگ الگ ہیں ہماری راہیں ہماری مشکل جڑی ہوئی ہے

مجھے مسافت کے ہیں مسائل اسے بھی منزل ملی نہیں ہے

تمہارا لہجہ تمہاری باتوں کا ساتھ دینے سے ڈر رہا ہے

یہ سب دِکھاوا ہی کر رہے ہو تمہیں محبت ہوئی نہیں ہے


زہرا شاہ

No comments:

Post a Comment