Tuesday, 12 January 2021

مجھے منظور کاغذ پر نہیں پتھر پہ لکھ دینا

 مجھے منظور کاغذ پر نہیں پتھر پہ لکھ دینا

ہٹا کر مجھ کو تم منظر سے پس منظر پہ لکھ دینا

خبر مجھ کو نہیں میں جسم ہوں یا کوئی سایا ہوں

ذرا اس کی وضاحت دھوپ کی چادر پہ لکھ دینا

اسی کی دید سے محروم جس کو دیکھنا چاہوں

مِری آنکھوں کو اس کے خواب گوں پیکر پہ لکھ دینا

اسی مٹی کا غمزہ ہیں معارف سب حقائق سب

جو تم چاہو تو اس جملے کو لوحِ زر پہ لکھ دینا

بہت نازک ہیں میرے سرو قامت تیغ زن لوگو

ہزیمت خوردگی میری صف لشکر پہ لکھ دینا

کبھی میں بھی اڑانیں بھرنے والا تھا بہت اونچی

مِری پہچان اسی ٹوٹے ہوئے شہپر پہ لکھ دینا

سرابوں کے سفر سے تو نہیں لوٹا فضا اب تک

جو خط لکھنا تو اتنی بات اس کے گھر پہ لکھ دینا


فضا ابن فیضی

No comments:

Post a Comment