Tuesday, 12 January 2021

رات ہم نے جہاں بسر کی ہے

 رات ہم نے جہاں بسر کی ہے

یہ کہانی اسی شجر کی ہے

یہ ستارے یہاں کہاں سے آئے

یہ تو دہلیز میرے گھر کی ہے

نیند کیا کیجیے کہ آنکھوں میں

اک نئی جنگ خیر و شر کی ہے

میرے کچے مکان کے اندر

آج تقریب چشمِ تر کی ہے

ہجر کی شب گزر ہی جائے گی

منتخب اور ہی ڈگر کی ہے

اٹھ رہا ہے دھواں مِرے گھر میں

آگ دیوار سے اِدھر کی ہے

ہم نے اپنے وجود کی چادر

تنگ اپنے گمان پر کی ہے

وہ ستارہ شناس ایسا تھا

یا کسی نے اسے خبر کی ہے

جا رہے ہو کدھر رسا مرزا

دیکھتے ہو ہوا کدھر کی ہے


رسا چغتائی

No comments:

Post a Comment