Tuesday, 12 January 2021

شوخی نگہ کے ساتھ تغافل جفا کے ساتھ

 شوخی نِگہ کے ساتھ تغافل جفا کے ساتھ

عشاق پر ہجوم بلا ہے بلا کے ساتھ

تیرے ستم سے مجھ کو ملا منصب کلیم

اک وجہِ گفتگو نکل آئی خدا کے ساتھ

یارب غلط ہو فہم کج اندیش کا گماں

کچھ کہہ رہا ہے ان سے عدو التجا کے ساتھ

کیوں شوق میں گرائیے ساتھ اپنے شانِ عشق

اغماض بھی ضرور ہے کچھ التجا کے ساتھ

ہم عالمِ خیال میں کچھ بھی نہ خوش ہوئے

ہے رشک غیر یاد لبِ جاں فزا کے ساتھ

آتا ہے بوئے دوست میں کافر بسا ہوا

قاصد بھی اک رقیب ہے اپنا صبا کے ساتھ

کیا ڈھونڈھتے ہو دہر میں انور جمالِ دوست

چندے پھرو چلو کسی مردِ خدا کے ساتھ


انور دہلوی

No comments:

Post a Comment