موت درکار ہے شاعر کی پذیرائی کو
بعد مرنے کے نگینے کا پتہ چلتا ہے
کیا بتاؤں میں تمہیں اہلِِ قلم کی قسمت
ان کو مرنے پہ ہی جینے کا پتہ چلتا ہے
جان لیتی ہے مِرا حال مجھے تکتے ہی
میری ماں کو مِرے چہرے کا پتہ چلتا ہے
گھر کی دیواروں پہ تحریر تو یہ ہوتا نہیں
بس سلیقے سے گھرانے کا پتہ چلتا ہے
پست لوگوں کے بھی ہو سکتے ہیں مدفن اونچے
مقبرے سے کہاں شجرے کا پتہ چلتا ہے
میری نظروں میں وہ انسان ہے انساں واصف
جس کو ہمسائے کے فاقے کا پتہ چلتا ہے
جبار واصف
No comments:
Post a Comment