ایسے بے لطف نظاروں سے بہلتی کیوں کر
تُو مجھے دل میں جو رکھتا تو بکھرتی کیوں کر
درد توثیق کے درجے سے اترتا کیسے
مسند عشق سے میں گر کے سنبھلتی کیوں کر
تجھ کو درکار بہانے تھے جدائی کے لیے
میں سرِ عام محبت سے منع کرتی کیوں کر
میری دہلیز پہ بیٹھی تھی گھٹن صدیوں کی
آندھی پھر آ کے کواڑوں سے لپٹتی کیوں کر
اک جدائی کی طوالت سے تھکن چہرے پہ
ہجر کے ایسے تسلسل میں سنورتی کیوں کر
اب تو انجان سے رستوں پہ ملا کرتی ہے
گھر میں رہتی یہ اداسی تو بھٹکتی کیوں کر
زہرا شاہ
No comments:
Post a Comment