Sunday, 20 June 2021

چور خدشے بھی سبھی لے گئے سامان کے ساتھ

 چور خدشے بھی سبھی لے گئے سامان کے ساتھ

کچھ منافع بھی ہُوا ہے مجھے نقصان کے ساتھ

عمر بھر ساتھ نبھانا ہے کسی کا اس پر

ہم کو مقتل میں بھی جانا ہے بڑی شان کے ساتھ

تم سے ملنا بھی ضروری ہے مگر آج مجھے

دشتِ ویراں نے پکارا ہے بڑے مان کے ساتھ

دور بیٹھا وہ حسیں عہد کیۓ جاتا ہے

آنکھ روتی ہی چلی جاتی ہے مسکان کے ساتھ

میں زمیں زاد ہوں تو ایک پرندہ ٹھہرا

میری دوڑوں کو بھلا کیا تِری پروان کے ساتھ

ہار اور جیت کا کیا ذکر کے ہم بزدل لوگ

ڈٹ کے لڑ بھی کہاں پائے کسی طوفان کے ساتھ

پاپ گنتے ہیں یہاں لوگ انہیں کیا معلوم

میرا ناطہ بڑا مضبوط ہے رحمٰن کے ساتھ

قتل کرنے کو چلے آئے، دعا دی نہ سلام

مجھ سے آداب بھی لے جاؤ مِری جان کے ساتھ

بعد از مرگ ملیں گے تجھے فردوس میں ہم

تا دمِ مرگ رہیں گے اسی ایمان کے ساتھ


عائشہ شفق

No comments:

Post a Comment