Sunday, 23 May 2021

عشق ہو جاؤں پیار ہو جاؤں

 عشق ہو جاؤں پیار ہو جاؤں

میں جو خوشبوئے یار ہو جاؤں

جب بھی نکلوں میں ڈھونڈنے اس کو

دھول مٹی غبار ہو جاؤں

اس کے وعدے کا اعتبار کروں

پھر شب انتظار ہو جاؤں

اوڑھ لوں اس کی یاد کی چادر

اور خود پر نثار ہو جاؤں

میں تِرا موسم خزاں پہنوں

اور فصلِ بہار ہو جاؤں

ایک شب اس کو اس طرح دیکھوں

دامنِ شب کے پار ہو جاؤں

جو ہوا تجھ کو چھُو کے آئے میں

اس کو چھُو لوں بہار ہو جاؤں

جس گھڑی اس کا آئینہ دیکھوں

اس گھڑی عکسِ یار ہو جاؤں

پھول ٹانکوں لباس میں اس کے

میں اگر دستکار ہو جاؤں

اس کا کاجل لگا کے آنکھوں میں

مستئ چشمِ یار ہو جاؤں

چاہتا وہ بھی ہے یہی افروز

آگ پی لوں شرار ہو جاؤں


افروز رضوی

No comments:

Post a Comment