عشق ہو جاؤں پیار ہو جاؤں
میں جو خوشبوئے یار ہو جاؤں
جب بھی نکلوں میں ڈھونڈنے اس کو
دھول مٹی غبار ہو جاؤں
اس کے وعدے کا اعتبار کروں
پھر شب انتظار ہو جاؤں
اوڑھ لوں اس کی یاد کی چادر
اور خود پر نثار ہو جاؤں
میں تِرا موسم خزاں پہنوں
اور فصلِ بہار ہو جاؤں
ایک شب اس کو اس طرح دیکھوں
دامنِ شب کے پار ہو جاؤں
جو ہوا تجھ کو چھُو کے آئے میں
اس کو چھُو لوں بہار ہو جاؤں
جس گھڑی اس کا آئینہ دیکھوں
اس گھڑی عکسِ یار ہو جاؤں
پھول ٹانکوں لباس میں اس کے
میں اگر دستکار ہو جاؤں
اس کا کاجل لگا کے آنکھوں میں
مستئ چشمِ یار ہو جاؤں
چاہتا وہ بھی ہے یہی افروز
آگ پی لوں شرار ہو جاؤں
افروز رضوی
No comments:
Post a Comment