Wednesday, 10 March 2021

بھولے افسانے وفا کے یاد دلواتے ہوئے

 بھولے افسانے وفا کے یاد دلواتے ہوئے

تم تو آئے اور دل کی آگ بھڑکاتے ہوئے

موجِ مے بل کھا گئی، گل کو جماہی آ گئی

زلف کو دیکھا جو اس عارض پہ لہراتے ہوئے

بے مروت یاد کر لے، اب تو مدت ہو گئی

تیری باتوں سے دلِ مضطر کو بہلاتے ہوئے

نیند سے اٹھ کر کسی نے اس طرح آنکھیں ملیں

صبح کے تارے کو دیکھا آنکھ جھپکاتے ہوئے

ہم تو اٹھے جاتے ہیں لیکن بتا دے اس قدر

کس کے در کی خاک چھانے تیرے کہلاتے ہوئے

جھاڑ کر دامن اثر جس بزم سے اٹھ آئے تھے

آج پھر دیکھے گئے حضرت ادھر جاتے ہوئے


اثر لکھنوی

No comments:

Post a Comment