Wednesday, 10 March 2021

سانسوں کی حرارت سے پگھل جانے کا موسم

 سانسوں کی حرارت سے پگھل جانے کا موسم

آیا ہے تیری آنچل میں جل جانے کا موسم

ہم کو نہیں معلوم تھا عشق کا آغاز

یادوں میں کہیں دور نکل جانے کا موسم

لگتا ہے کہ چہرے پہ تیرے ٹھہر گیا ہے

یک لخت کئی رنگ بدل جانے کا موسم

اے شہرِ تسلی! تیرے مشکور ہیں لیکن

آیا ہی نہیں دل کے سنبھل جانے کا موسم

یہ شہرِ تمنا بھی انوکھا ہے کہ اس پر

برسات میں رہتا ہے تھل جانے کا موسم

چہرے پہ اگرچہ ہے میرے صبح کا اُجالا

آنکھوں میں مگر شام کے ڈھل جانے کا موسم


فرحت عباس شاہ

No comments:

Post a Comment