Wednesday, 10 March 2021

مجبوریوں کا پاس بھی کچھ تھا وفا کے ساتھ

 مجبوریوں کا پاس بھی کچھ تھا وفا کے ساتھ

وہ راستے سے پھِر گیا کچھ دور آ کے ساتھ

قُربِ بدن سے کم نہ ہوئے دل کے فاصلے

اک عمر کٹ گئی کسی نا آشنا کے ساتھ

ساتھ اسکے رہ سکے نہ بغیر اسکے رہ سکے

یہ ربط ہے چراغ کا کیسا ہوا کے ساتھ

میں جھیلتا رہا ہوں عذاب اس کا عمر بھر

بچپن میں ایک عہد کیا تھا خدا کے ساتھ

پہلے تو ایک خانۂ ویراں کا شور تھا

اب دل بھی گونجتا ہے خروشِ ہوا کے ساتھ

یہ رنگِ دستِ ناز یونہی تو نہیں سلیم

دل کا لہو بھی صَرف ہوا ہے حنا کے ساتھ


سلیم احمد

No comments:

Post a Comment